عنوان:تغافل: رشتوں کو بچانے کا وہ ہنر جسے ہم بھول گئے

تغافل کیا ہے؟
عربی زبان کا ایک بہت خوبصورت لفظ ہے "تغافل"۔ اس کا مطلب ہے: سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بن جانا۔ کسی کی خامی یا غلطی کو دیکھ لینا، مگر اس طرح گزر جانا جیسے دیکھا ہی نہیں۔
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:
"عقلمندی کا دس میں سے نو حصہ ’تغافل‘ (یعنی نظر انداز کرنے) میں ہے۔"
ہماری غلطی:
آج ہمارے رشتوں (میاں بیوی، والدین، بہن بھائی، دوست) میں دراڑیں کیوں پڑ رہی ہیں؟ کیونکہ ہم "تغافل" کے بجائے "تحقیق" (Investigation) کرنے لگ گئے ہیں۔
ہم ہر بات کی کھال اتارتے ہیں۔
"تم نے یہ کیوں کہا؟ تمہارا لہجہ ایسا کیوں تھا؟ تم نے مجھے اگنور کیوں کیا؟"
یہ رویہ رشتوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ یاد رکھیں! کوئی بھی انسان مکمل (Perfect) نہیں ہے۔ اگر آپ ہر چھوٹی بات پر پکڑ کریں گے، تو آپ اکیلے رہ جائیں گے۔
نبویؐ مزاج:
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ گھر والوں اور صحابہ کی ناگواری باتوں سے اکثر چشم پوشی (Overlook) فرما دیتے تھے۔ یہ کمزوری نہیں، بلکہ اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے۔
نتیجہ:
اگر آپ ذہنی سکون چاہتے ہیں اور اپنے گھر کو جنت بنانا چاہتے ہیں تو "ڈیٹیکٹیو" (جاسوس) بننا چھوڑ دیں اور "تغافل" کا چشمہ پہن لیں۔ لوگوں کی چھوٹی غلطیوں کو معاف کرنا اور نظر انداز کرنا سیکھیں۔
رشتہ وہ جیتتا ہے، جو انا کو ہرا دیتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.