عنوان:آدھا سایہ، آدھی دھوپ: منع کیوں؟ (ایک نبویؐ راز اور اس کی طبی حکمت)

تمہید اور ممانعت:
موسم کوئی بھی ہو، اکثر ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ کسی عمارت یا درخت کا سایہ ایک جگہ پر آ کر ختم ہو رہا ہوتا ہے اور باقی جگہ پر دھوپ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ آرام کے لیے عین اسی دھوپ اور چھاؤں کی سرحد پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی، محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس خاص طریقے سے بیٹھنے سے سختی سے منع فرمایا ہے؟ یہ نہ صرف ایک شرعی حکم ہے بلکہ اس کے پیچھے جدید طب اور صحت کی ایک گہری حکمت بھی پوشیدہ ہے۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو اور پھر سایہ سمٹ جائے اور وہ آدھا دھوپ اور آدھا چھاؤں میں ہو جائے تو وہ وہاں سے اٹھ جائے۔" (سنن ابوداؤد)
اور بعض روایات میں اس مقام کو "مجلس الشیطان" (شیطان کے بیٹھنے کی جگہ) کہا گیا ہے۔
حکمتِ نبویؐ (طبی اور جسمانی پہلو):
قدیم حکماء سے لے کر جدید میڈیکل سائنس تک، ماہرین نے اس ممانعت کی دو اہم وجوہات بیان کی ہیں:
1. جسمانی نظام میں بگاڑ: جب جسم کا آدھا حصہ تیز گرمائش (دھوپ) میں ہوتا ہے اور دوسرا آدھا حصہ ٹھنڈک (سایہ) میں، تو جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے والا نظام (Thermoregulation) گڑبڑا جاتا ہے۔
2. خون کی غیر متوازن گردش: جسم کے جس حصے پر دھوپ پڑتی ہے، وہاں خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں (Vasodilation) تاکہ حرارت خارج ہو۔ اور جہاں سایہ ہوتا ہے وہاں نالیاں سکڑ جاتی ہیں (Vasoconstriction)۔ جسم کے اندر بیک وقت یہ دو متضاد عمل ہو رہے ہوتے ہیں، جو سر درد، سستی، تھکاوٹ، اور اعصابی تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
3. شیطانی وسوسہ: شرعی نقطہ نظر سے، چونکہ اسے شیطان کی مجلس کہا گیا ہے، تو اس جگہ بیٹھنے سے انسان دینی اور جسمانی سکون دونوں سے محروم رہتا ہے۔
خلاصہ کلام:
دینِ اسلام کی ہر ممانعت کے پیچھے ہمارے لیے کوئی نہ کوئی خیر اور بہتری ضرور چھپی ہے۔ نبی ﷺ نے ہمیں نہ صرف آخرت کے لیے بلکہ اس دنیا میں بھی صحت مند اور متوازن زندگی گزارنے کے اصول سکھائے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.