عنوان: برکت کہاں چلی گئی؟ ایک نبویؐ نسخہ اور نفسیاتی حقیقت


(تحریر: ابو طیب لقمان)
تمہید:
آج ہر دوسرا شخص پریشان ہے کہ "کمائی بہت ہے مگر برکت نہیں"۔ ہم نے برکت کو صرف پیسوں میں ڈھونڈا، حالانکہ برکت کا تعلق ہماری سوچ اور زبان سے تھا۔
اصل بیماری: "شکوہ"
نفسیاتی طور پر انسان جب مسلسل شکوہ کرتا ہے، تو اس کا ذہن صرف ان چیزوں پر مرکوز ہو جاتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہیں۔ اس منفی سوچ کا اثر اس کی کارکردگی اور رزق پر پڑتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس کا حل چودہ سو سال پہلے ایک جملے میں دے دیا: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا" (سورہ ابراہیم: 7)۔
نبویؐ حکمت:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب ہم اپنے سے اوپر والوں کو دیکھ کر "کاش میرے پاس بھی یہ ہوتا" کہتے ہیں، تو ہمارے موجودہ رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
حل کیا ہے؟
برکت نوٹوں کی گنتی میں نہیں، دل کے اطمینان میں ہے۔ آج سے ایک مشق (Practice) شروع کریں: دن میں دس بار شکوہ کرنے کے بجائے صرف ایک بار "الحمدللہ" دل سے کہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہی رزق جو پہلے کم پڑتا تھا، اب اس میں سے بچت بھی ہونے لگی ہے۔
نتیجہ:
رزق اللہ کی عطا ہے، اور شکر اس عطا کو محفوظ کرنے کا تالا ہے۔ تالا لگائیں اور اپنی زندگی کو پرسکون بنائیں۔

Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
  1. ماشاء الھ اپ کی تحریر پڑھ کر خوشی ھوءی اور الھ أپ کو اور لکھنے کی توفیق دے آمین

    ReplyDelete