تمہید:
کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، اور جب بات علم کی تحقیق (Research) کی ہو تو یہ راستہ مزید کٹھن ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر کام کلک پر ہو جائے، لیکن یاد رکھیں کہ گہری علمی پیاس بجھانے کے لیے "صبر" اور "وقت" کی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
سماجی رویہ:
ہمارے معاشرے میں ڈگری کو صرف کاغذ کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک محقق (Researcher) جانتا ہے کہ ایک ایک صفحے کو لکھنے اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے میں کتنی راتوں کا سکون قربان کرنا پڑتا ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی کامیابی تو دیکھتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی "بار بار کی تصحیح" اور "رد کیے جانے والے مسودوں" کی تکلیف کو نہیں دیکھ پاتے۔
استقامت کا پیغام:
اگر آپ کسی بڑے مقصد کے لیے نکلے ہیں، تو لوگ آپ سے کہیں گے کہ "جلدی کرو"، "بس ختم کرو"۔ لیکن یاد رکھیں، ایک معیاری کام جو دیر سے ہو، اس کام سے ہزار گنا بہتر ہے جو جلدی میں اور ادھورا کیا گیا ہو۔ اکیڈمک دنیا میں معیار (Quality) ہی آپ کی پہچان بنتا ہے۔
نتیجہ:
اپنے کام میں پختگی لائیں، چاہے اس کے لیے آپ کو اپنی تحریر کو دس بار ہی کیوں نہ بدلنا پڑے۔ جب آپ کا کام بولے گا، تو زمانے کی خاموشی خود بخود ختم ہو جائے گی۔