آغاز:
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے گھر بڑے ہو گئے ہیں لیکن خاندان چھوٹے ہو گئے۔ ہمارے پاس ڈگریاں زیادہ ہیں لیکن عقل (Sense) کم ہے۔ ہمارے پاس ماہرین (Experts) بہت ہیں لیکن مسائل اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے پاس "سہولیات" تو بے شمار ہیں، مگر "وقت" بالکل نہیں ہے۔
دکھاوے کی دیمک:
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں "ہونا" اہم نہیں ہے، بلکہ "نظر آنا" اہم ہو گیا ہے۔ ہم مہنگے ہوٹلوں میں کھانا اس لیے نہیں کھاتے کہ ہمیں بھوک لگی ہے، بلکہ اس لیے کھاتے ہیں کہ اس کی تصویر سوشل میڈیا پر لگائی جا سکے۔ ہم خوشی محسوس کرنے کے بجائے خوشی کی "نمائش" کرنے میں مصروف ہیں۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ہماری بے سکونی شروع ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی "ایڈیٹ شدہ" (Edited) زندگیوں سے کرتے ہیں، تو ہم ناشکرے ہو جاتے ہیں۔
سکون کہاں کھو گیا؟
ہم سکون کو بازاروں، برانڈز اور گیجٹس میں تلاش کر رہے ہیں، جبکہ سکون کا تعلق "باہر" سے نہیں، "اندر" سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں ایک خلا رکھا ہے، اور یہ خلا صرف اور صرف "اللہ کی یاد" سے بھر سکتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی کامیابی، دولت یا شہرت اس خلا کو نہیں بھر سکتی۔
جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد: 28)
حل کیا ہے؟
آئیے آج تھوڑی دیر کے لیے رک جائیں۔ اپنے فون کی اسکرین بند کریں اور اپنے دل کی آواز سنیں۔ دوسروں کو دکھانے کے لیے جینا چھوڑ دیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنا سیکھیں۔
سکون کسی دکان پر نہیں بکتا، یہ آپ کے سجدوں میں، آپ کی شکر گزاری میں اور آپ کی قناعت میں پوشیدہ ہے۔
فیصلہ:
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے: آپ کو انسٹاگرام کی "لائیکس" چاہییں یا دل کا "سکون"؟