انسانی وجود میں زبان گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، لیکن اس کی تاثیر پہاڑوں سے زیادہ وزنی ہے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ "تلوار کا زخم بھر جاتا ہے، لیکن الفاظ کا دیا ہوا زخم کبھی نہیں بھرتا۔" بحیثیت مسلمان اور بحیثیت ایک سماجی رکن، ہمارے الفاظ نہ صرف ہماری شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں بلکہ یہ معاشرے میں امن یا بگاڑ کا سبب بھی بنتے ہیں۔
الفاظ: تعمیر یا تخریب کا ذریعہ
نفسیات (Psychology) کہتی ہے کہ انسانی دماغ الفاظ کو تصاویر اور احساسات میں تبدیل کرتا ہے۔ جب آپ کسی سے نرمی سے بات کرتے ہیں، تو آپ اس کے اندر اعتماد اور محبت کا بیج بوتے ہیں (تعمیر)۔ اس کے برعکس، طنز، تضحیک، یا سخت جملے سامنے والے کی عزتِ نفس کو مجروح کر کے اس کی صلاحیتوں کو کچل دیتے ہیں (تخریب)۔
آج ہمارے معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ "بدکلامی" اور "عدم برداشت" ہے۔ ہم اصلاح کے نام پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن ہمارا انداز اتنا جارحانہ ہوتا ہے کہ اصلاح کا دروازہ وہیں بند ہو جاتا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر
دینِ اسلام نے گفتگو کے آداب پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"اور لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔" (سورۃ البقرہ: 83)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ یا تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔" (صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر وہ لفظ جو کسی کا دل دکھائے، یا جس میں کوئی خیر نہ ہو، اسے بولنے سے بہتر خاموشی ہے۔ ایک مومن کی پہچان اس کی عبادت سے زیادہ اس کے معاملات اور اخلاق سے ہوتی ہے۔
اصلاح کا نبوی منہج
اگر ہم کسی میں کوئی خامی دیکھیں تو ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا اسے سوشل میڈیا پر ذلیل کیا جائے؟ یا محفل میں اس کا مذاق اڑایا جائے؟ ہرگز نہیں۔
اصلاح کا نبوی طریقہ یہ ہے کہ تنہائی میں، نرمی کے ساتھ اور خیر خواہی کے جذبے سے بات سمجھائی جائے۔ مقصد "نیچا دکھانا" نہیں بلکہ "راستہ دکھانا" ہونا چاہیے۔
خلاصہ کلام
آئیے آج خود احتسابی (Self-Accountability) کریں۔ کیا ہمارے الفاظ ہمارے گھر والوں، دوستوں اور ماتحتوں کے لیے سکون کا باعث ہیں یا اذیت کا؟
یاد رکھیں! الفاظ وہ تیر ہیں جو کمان سے نکل جائیں تو واپس نہیں آتے۔ اپنی زبان کو پھول بکھیرنے کے لیے استعمال کریں، کانٹے بچھانے کے لیے نہیں۔ بہترین معاشرہ تبھی تشکیل پائے گا جب ہم "گفتار کے غازی" بننے کے بجائے "کردار کے غازی" بنیں گے۔