لوگوں کی اصلاح کی ابتدا اپنے آپ سے کریں | قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر: ڈاکٹر ابو طیب لقمان



ہم اکثر معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ کبھی نوجوانوں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، کبھی والدین کو، کبھی حکمرانوں کو اور کبھی زمانے کو۔ لیکن ایک سوال ہم خود سے کم ہی پوچھتے ہیں: میں نے اپنی اصلاح کے لیے کیا کیا؟

قرآن مجید انسان کو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کی دعوت دیتا ہے:

“اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔”
(سورۃ المائدہ: 105)

اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دیا جائے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان اپنی ذمہ داری ادا کرے، پھر حکمت کے ساتھ دوسروں کی خیرخواہی کرے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اصل اصلاح یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ اپنی نمازوں کو دیکھے، اپنے معاملات کو پرکھے، اپنی زبان کی حفاظت کرے، اپنے رزق کی پاکیزگی کا جائزہ لے اور اپنے اخلاق کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

بدقسمتی سے آج ہم سوشل میڈیا پر دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے میں بہت تیز ہیں، مگر اپنے عیبوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ظاہری نعروں سے زیادہ دلوں کی کیفیت اور اعمال کی اصلاح کو دیکھتا ہے۔

اگر ہر شخص روزانہ صرف چند منٹ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے تو گھر بدلیں گے، گھر بدلیں گے تو معاشرہ بدلے گا، اور معاشرہ بدلے گا تو امت کی حالت بھی بہتر ہوگی۔

آئیے آج یہ عہد کریں کہ دوسروں کو بدلنے کی کوشش سے پہلے اپنے کردار، عبادات، معاملات اور اخلاق کو سنواریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے انفرادی اور اجتماعی اصلاح کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنی اصلاح کرنے، حق کو قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.